دانتوں
اور ہڈیوں کی بیماریاں پیدا کرتی ھے صاف پانی کا مسئلہ ہمارے ہاں ہی نہیں ہے بلکہ
بہت سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک یا میں شک نہیں کہ دنیا بھر میں زیادہ تر
بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ فلورائیڈ نامی کیمیاوی مادہ جب کسی وجہ
سے پانی میں مل جاتا ہے تو اس سے ہونے والے نقصانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس
کے باعث خاص بیماری فلوروسس پیدا ہو جاتی ہے ۔ پانی میں فلورائیڈ کی بہت بڑھتی
ہوئی مقدار کے سبب انسانوں کو دانتوں اور ہڈیوں کی طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا
کرنا پڑتا ہے۔ طبی ماہرین فلورائیڈ کے استعمال سے عوام الناس کو خبر دار کرتے ہوئے
خصوصاً ان معاشروں میں جہاں دانتوں اور ہڈیوں کی بیماریاں روز بروز بڑھتی جارہی ہے
پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر زور دیتے رہتے ہیں۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ
دانتوں اور ہڈیوں کی بیماریاں بھارت، چین، انڈونیشیا، ایران، عراق ، ترکی ،
تنزانیہ اور لیبیا میں خاصی پاتی ہی جاتی ہیں اس کے علاوہ یہ جرمنی اور امریکا
جیسے امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھی جارہی ہیں اور ان بیماریوں کی بڑی
وجہ پینے کے پانی میں فلورائیڈ اور اس کے مرکبات کی موجودگی ہوتی ہے۔
ماہرین
کا کہنا ہے کہ اگر ایک لیٹر پانی میں محض ایک ملی گرام فلورین موجود ہوتو یہ نقصان
دہ نہیں ہوتی تا ہم اگر اتنے ہی پانی میں فلورین کی مقدار ایک گرام سے تجاوز کر
جائے تو یہ صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے ۔ پانی میں فی لیٹر چار سے پانچ
ملی لیٹر فلورین کی مقدار دانتوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے ۔ بھارتی ریاست آند میر
اپردیش کے بیشتر علاقوں میں فی لیٹر پانی میں فلورین کی مقدار 1.5 سے 10.5 ملی
گرام تک ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں مضر صحت کیمیاوی مادے
فالورائیڈ کی پانی میں مقدار مختلف ہوسکتی ہے اور یہ فی لٹر 300 ملی گرام تک ہو
سکتی ہے ۔ جن علاقوں میں المونیم ساز فیکٹری پائی جاتی ہیں وہاں فی لٹر پانی میں
فلورائیڈ کی مقدار 300 ملی گرام تک ہوسکتی ہے۔ ان فیکٹریوں میں بہت زیادہ فلورائیڈ
استعمال کیا جاتا ہے جو آب و ہوادونوں کو بری طرح آلودہ کرتا ہے۔ بھی تحقیق سے پتہ
چلا ہے کہ فلورائیڈ جسم کے مختلف حصوں ، خصوصاً دانتوں اور ہڈیوں میں جمنا شروع ہو
جاتا ہے اور جوڑوں کے در داور ریڑھ کی ہڈی سے جڑے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ یہی نہیں
بلکہ جسم میں جمع ہو جانے والا فلورائیڈ مختلف بیکٹیریا ، وائرس اور جراثیموں کو
دعوت دیتا ہے اور یہ جسم میں داخل ہو کر طرح طرح کی بیماریوں اور تکالیف کا موجب
بنتے ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلورائیڈ سے آلودہ پانی کی طرح آلودہ کھانوں کا استعمال بھی صحت کے لئے مصر ثابت ہوتا ہے ۔ گوشت، مچھلی، سیاہ اور سرخ نمک، کالی یا بغیر دودھ کی کافی اور چائے بھی جسم کو فلورائیڈ فراہم کرتی ہے بلکہ ان طبی اجزاء کے ذریعے پہنچنے والا فلورائیڈ زیادہ مضر ہوتا ہے ۔ ی محققین فلورائیڈ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لئے غذائی عادات میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہیں مثال کے طور پر لیموں ،سنگترا اور دیگر تراش اشیاء کے علاوہ آلو، ٹماٹر اور وٹامن سی سے بھر پورسبزیوں کا استعمال فلورائیڈ کے مضر اثرات کو ضائع کر دیتا ہے ۔ گاجر اور سبز پتوں والی سبزیوں کا بڑی مقدار میں استعمال بھی مفید ہوتا ہے۔

0 Comments