گردوں کا خیال رکھیے

ہمیں یوں تو تمام اعضا کا خیال رکھنا چا ہے لیکن خاص طور پر گردوں کی صحت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ دنیا بھر میں صاف پانی کی کمی ہے، اس لیے صاف ستھرے پانی کی عدم فراہمی گردوں کے ایک دو نہیں، بلکہ کئی امراض کا سبب بن رہی ہے۔ پانی کے علاوہ گردوں کیلئے مفید صحت غذاؤں کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ گردوں کے امراض کی ابتدائی علامات جب تک بڑھ کرسنگین صورت اختیار نہیں کر جاتیں، ان کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ، یہاں تک گردوں کی کارکردگی خطرے میں پڑ جاتی ہے، جب کہ اس شکایت میں اضافے سے بروقت علاج ممکن نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں اب یہ بات بھی واضح اور ثا بت ہوگئی ہے کہ گردوں کی صحت کا غذا سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے، اس لیے صاف ستھرا اور زیادہ مقدار میں پانی پینے کے ساتھ ساتھ یہ بہت ضروری ہے کہ گردوں کی صحت کیلئے غذائی پر ہیز کی جائے ،اس سلسلے میں درج ذیل ہدایات پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ 

پروٹین کم کھائیے یہ درست ہے کہ غذا میں لحمیات (پروٹین) کی موجودگی جسم کی صحت مند نمو اور پرورش کیلئے ضروری ہوتی ہے، لیکن لحمیات پیشاب میں اس کا تیزاب، یعنی یوریا بھی بناتے ہی، جس سے خارج کرنے کیلئے گردوں کو بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے، تا کہ اس طرح جسم سے اس کا اخراج ہوتا رہے ، اس لحاظ سے گردوں کے مریضوں کیلئے ضروری ہے کہ حیوانی پروٹین ، یعنی گوشت، دودھ اور اس کی مصنوعات اور مرغی وغیرہ کی جگہ نباتی پروٹین ،مثلاً پھلیاں، اناج، دالیں ، سو یا بین اور س سے بنا ہوا پنیر یا دہی کھایا کریں، کیونکہ ان سے یوریا کم بنتا ہے۔

پاکستان میں یوریا کی کثرت : پاکستان میں یوریا کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے ، اس کا بنیادی سبب لوگوں میں  گوشت خوری کا بڑھتا ہوا رجحان ہے ۔ شہید حکیم محمد سعید گوشت خوری کا رجحان کم کرنے پر بہت زور دیتے تھے ۔ انہیں اندیشہ تھا کہ اس سے صحت ، بالخصوص گردوں کے امراض بڑھیں گے ۔ اس کے علاوہ ایک زرعی ملک کی حیثیت سے پاکستان حیوانات کی دولت سے محروم ہو جائے گا۔ ان کا یہ اندیشہ آج درست ثا بت ہو گیا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ شہروں میں کباب اور تکوں کے علاوہ قسم قسم کا بازاری تیار گوشت شوق سے کھایا جارہا ہے ۔ ان میں مرغی ، گائے کی بوٹیاں، چٹ پٹے کباب اور انڈے وغیرہ ضرورت سے زیادہ کھائے جا رہے ہیں۔ ایسی اشیا بیرون ملک سے بھی درآمد کی جارہی ہیں۔

گوشت کی تیار اشیا: گوشت کی ان تیا را شیا میں چربی کے علاوہ سوڈئیم، یونی نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ یہی نہیں، بلکہ انہیں نہایت نمکین چٹنیوں، کیچپ، زیادہ مایونیز اور آلو کی نمکین تلی چیزوں (فرنچ فرائز) کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ تجربہ یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ کولا مشروبت بھی خوب لیے جاتے ہیں ۔ گھر میں تیار سینڈوچ کے مقابلے میں بازاری سینڈوچ اور ند خورہ بالا ایسی تمام اشیا میں نمک کی مقدار زیادہ وہ ہوتی ہے، جو بالآخر ہائی بلڈ پریشر کا سب بنتی ہے ۔  گو یااس سے گردہ کےامراض کا آغاز ہوتا ہے، جو گردوں سے گزر کر قلب کی شکایات کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔

نائٹرائٹس کی کثرت :

گوشت کی ان تیار اشیا میں ان کی رنگت سرخ رکھنے کیلئے نائٹرائٹس (NITRITES) اور نائٹریس ( NITRATES) بھی زیادہ شامل کیے جاتے ہیں۔ بطور دوا انہیں شریانوں کی تنگی دور کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن تیار گوشت میں انہیں شامل کرنے سے بالآخر ایہ متاثر ہو کر انسولین کی تیاری کم کر دیتا ہے اور اس طرح ذیا بیطیس بھی گھیر لیتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق دن میں ایک دفعہ تیار بازاری گوشت، دو سلائس اور مرغی کے گوشت کی چار بوٹیوں کے استعمال سے مرض ذیا بیطیس کے خطرے میں 29 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے،خاص طور پر ایسے تیار گوشت میں سوڈئیم ماٹرائٹ، جسے گوشت کا رنگ نکھارنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، سرطان کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک اور سات سالہ مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ اس قسم کا تیار کردہ گوشت کھانے سے لیلے کے سرطان کے علاوہ مدے، بڑی آنت اور مقعد کے سرطان کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔

گردوں کے تحفظ کی دوسری تدبیر:

اپنی غذا میں نمک کی مقدار کم رکھیے۔ کم مقدار نمک کی وجہ سے خون کا گاڑھا پن کم کرنے میں مددملتی ہے۔ گر دوں کے مریضوں میں نمک کی زیادہ مقدار کی وجہ سے خون کا عدم توازن پیدا ہوتا ہے ، بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور جسم میں پانی کے زیادہ رُکنے سے ورم پیدا ہوتا ہے، سانس پھولنے لگتا ہے، بلکہ قلب کی حرکت بھی بند ہوسکتی ہے۔ غذائی اشیا میں مصالوں کا اضافہ کر کے نمک کے مقابلے میں زیادہ ذائقے دارا اور محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔پوٹاشئیم کی مقدار بھی کم رکھیے: پوٹاشیم کی جسم میں فراہمی سرے اعصاب اور عضلات کی کارکردگی بہتر رہتی ہے، لیکن اس کی کثرت سے بھی گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے، بلکہ قلب بھی اپنا کام بند کر دیتا ہے ۔ کیلے، آلو، کشمش اور ٹماٹر جیسی اشیا کی مقدار بھی کم رکھنی چاہئے ۔ گردوں کے مریضوں کیلئے تو مناسب ہے کہ وہ ان چیزوں سے پر ہیز ہی کریں۔ فاسفورس سے اس میں کوئی شک نہیں کہ فاسفورس پلسلیم کے ساتھ مل کر ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے ۔ ہمارے گردے جسم میں فاسفورس کی سطح کو برقرار اور متوازن رکھتے ہیں لیکن فاسفورس کی زیادہ مقدار گر دوں کیلئے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے، اس لیے مناسب اور ضروری ہے کہ ایسی اشیا سے بچا جائے جن میں فاسفورس زیادہ مقدار میں ہوتاہے۔

گردوں کے دوست کو نہ بھولیے: گردے ہمارے جسم کے دھوبی کہلاتے ہیں  یعنی یہ جسم کے تمام اندرونی میل کچیل اور گندے مضر صحت اجزا سے خون کو صاف رکھتے ہیں، جس طرح کپڑوں کی صفائئ کیلئے پانی ضروری ہوتا ہے، اسی طرح گردوں کو جسم کی صفائی کے عمل میں پانی درکار ہوتا ہے۔ ہر بالغ شخص کو دن میں 2 لیٹر صاف پانی ضرور پینا چاہیے۔ یہ مقدار گر دوں کی کار کردگی بہتر رکھنے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ پانی کم پینا فخر کی بات نہیں ، بلکہ خطرے کی علامت ہوتا ہے ۔ پانی زیادہ پی کر آپ گردوں کی کارکردگی اور اپنی صحت میں اضافہ کرتے ہیں۔